ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”ایک شام محبوب رضا“ کے نام منعقد

المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”ایک شام محبوب رضا“ کے نام منعقد

Wed, 15 Mar 2017 22:41:23    S.O. News Service

دربھنگہ15مارچ(ایس  او نیوز/آئی این ایس انڈیا)المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ سبھاش چوک، لال باغ دربھنگہ کے زیر اہتمام”ایک شام محبوب رضا کے نام“(بانی وسرپرست پندرہ روزہ سرپرست، کولکاتا) منعقد کی گئی۔جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر عبد المنان طرزی نے کی۔ جب کہ نظامت ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے کی۔ سکریٹری نے اپنی باتوں میں محبوب رضا ایڈیٹر سرپرست کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ موصوف گذشتہ کئی سالوں سے مغربی بنگال میں تعلیمی بیداری تحریک کو لے کر چل رہے ہیں ان کا ویزن 2036ہے۔ ان کے اخبارپندرہ روزہ سرپرست نے ملک گیر سطح پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اس موقع پر محبوب رضا نے کہا کہ 2011ء کے سنسکس رپورٹ کے مطابق جو ستمبر میں حکومت ہند نے جاری کیا اس کے مطابق 36.9فی صد نا خواندگی ہے جس میں ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس سماج سے میں آتا ہوں وہ سب سے زیادہ نا خواندہ42.7فی ہے۔گویا کہیں نہ کہیں ملک کی ترقی میں ہمارا سو فی صد وطن بھائیوں کے ہمراہ اقدام نہیں ہے۔اسی رپورٹ کے دیکھنے کے بعد خیال آیا کہ ایسا کام ہو جو ملک وقوم کے مفاد میں سود مند ہو۔ خواہ کسی مذہب وملّت سے ہوں انہیں خواندہ بنانا ہی ویژن2036کا خواب ہے۔اس لئے کہ ہم سب کو تعلیم بیداری کانفرنس کرنا ہے اور پسماندہ سماج اور علاقوں میں جا کر جو ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی تعلیمی سہولتیں ہیں ان پسماندہ طبقہ کے درمیان RTEکے تحت 6سال سے14سال تک کے بچوں کے لئے تعلیم صد فی صد مفت ہے۔ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا کا م بچوں کو اسکول میں داخلہ کرادینا، انہیں کتابیں فراہم کرانا، یونیفارم، مڈ ڈے میل، یہاں تک کہ اسکالر شپ وغیرہ ریاستی اور مرکزی حکومت مہیا کراتی ہے۔وہیں اس موقع پر منور عالم راہی نے کہا کہ المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کی خدمات لائقِ ستائش ہیں اس کے لئے ڈاکٹر منصور خوشتر صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ آج کی مصروف ترین دنیا میں بھی خالص ادب کے فروغ کا جذبہ لے کر آنے والی بڑی شخصیات کی بھرپور عزت افزائی کرتے ہیں۔نئی نسل کے نمائندہ شاعر جمیل اختر شفیق نے کہا کہ میں اکثر منصور خوشتر صاحب کی دعوت پر متنوع پروگراموں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ میں ان کی لگن، محنت اور کوششوں کو دیکھتا ہوں تو رشک ہوتا ہے۔ انہوں نے المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کی شکل میں ایک ایسی تنظیم کو پلیٹ فارم بنایا ہے جس کے زیر اہتمام مختلف قسم کے علمی نشاطات کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ بنیادی طورپر ان کا سفر جس تیزی کے ساتھ جاری ہے اس تناظر میں مزید ان سے اچھی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔جمیل اختر شفیق نے اپنی بات اس کے ساتھ کی    ؎
وہ کرکے ہندو مسلمان بانٹ ڈالے گا
مجھے بھی ملک کے نقشے سے چھانٹ ڈالے گا
مجھے پتہ ہے کہ جلّاد کی حکومت ہے 
میں سر اٹھاکے جیوں گا تو کاٹ ڈالے گا
وہیں صدر مجلس پروفیسر عبدالمنان طرزیؔ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جناب محبوب رضا صاحب کے ذریعہ ہونے والے ایک مشاعرے کی دعوت پر گذشتہ سال مجھے کلکتہ جانے کا اتفاق ہوا۔اس تقریب کی شان وشوکت اور اس کے انجام پانے کا انداز دیکھ کر مجھے حیرت اور مسرت دونوں ہوئی۔اسی تقریب میں مقررین کے اظہارِ بیان سے مجھے پتہ چلا کہ موصوف محبوب رضا صاحب بنگال میں اردو ادبی وسماجی خدمات اور صحافت کی رو سے کس قدر فعال اور متحرک ہیں۔ اس تقریب میں بنگال کو چھوڑ کرتقریباً تین ریاست کے ایم ایل اے اور وزراء شریک تھے۔ اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کے آستانے سے کچھ صوفیاء اور مشائخ بھی تشریف فرما تھے۔ میرا اندازہ ہے کہ تقریباً 50انعامات مستحقین کو دئے گئے ہوں گے اور اس کے بعد بہت ہی کامیاب مشاعرہ جس میں کئی صوبے کے اکابر شعرائے کرام نے شرکت کی تھی۔ اسی تقریب کے بعد میرے دل میں موصوف کے تئیں ایک عقیدت جاگی۔جو ہنوز ہے۔گفتگو میں ان سے معلوم ہوا کہ آج کل وہ ایک بڑے کام کا جو ایک تحریک کی شکل دے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت وسلامتی کے ساتھ رکھے تاکہ وہ ادبی، قومی، ملّی اور ملکی خدمات انجام دیتے رہیں۔اس موقع پرڈاکٹر انتخاب ہاشمی، مولانا مہدی رضا روشن القادری ناظم اعلیٰ مدرسہ انوارالعلوم، ندا عارفی، محمدشمشاد وغیرہ موجودتھے۔
 


Share: